افغان چیک پوسٹوں سے طالبان کو تین ارب روپے پاکستانی کرنسی مل گئی۔

Pakistani currency. File Photo



پاک افغان چمن سرحد پر افغان سرکاری فوج سے چھینی گئی چیک پوسٹوں سے افغان طالبان کو 3 ارب روپے پاکستان کیش مل گئے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو افغان فورسز سمگلروں اور مال بردار گاڑیوں سے بطور رشوت لیتی تھی۔ ایسی سرحدی چوکیاں جہاں ساماں کی بین الاقوامی نقل و حرکت ہوتی ہے وہاں رشوت اور غیرقانونی آمدنی کے لیے زرخیز مانی جاتی ہیں۔ اس کام میں سرکاری لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔ افغانستان میں کمزور حکومتی ڈھانچہ کی وجہ سے سرکاری اہلکاروں میں رشوت عام ہے۔ یہ غیرقانونی پیسہ افغان خفیہ ایجنسی کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو بعد میں پاکستان میں کاروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔